یورپی یونین نے غیر ملکیوں، خاص طور پر ایشیا اور افریقہ سے آنے والے افراد کیلئے ایک نیا اور سخت ترین فیصلہ کر لیا ہے اس فیصلے کے بعد اٹلی، جرمنی، فرانس اور دیگر یورپی ممالک میں رہنا اور ویزہ حاصل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
اصل خبر کیا ہے؟
یورپی یونین نے اپنی آنے والے 5 سال کی نئی مائیگریشن اور ویزہ پالیسی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے اس نئی پالیسی کے تحت یورپ اب ایک نیا طریقہ اپنائے گا جسے کہا جا رہا ہے: Assertive Diplomacy (جارحانہ سفارتکاری) یعنی کہ اب ویزہ کو سہولت نہیں بلکہ دباؤ ڈالنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
کن ممالک کو فائدہ ملے گا؟
یورپی کمیشن کے مطابق: وہ ممالک جو یورپ سے ڈیپورٹ ہونے والے اپنے شہریوں کو واپس لینے میں تعاون کریں گے غیر قانونی تارکین وطن کو قبول کریں گے ان ممالک کے شہریوں کیلئے: ویزہ قوانین نرم ہو سکتے ہیں، سہولیات دی جا سکتی ہیں، ویزہ حاصل کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
کن ممالک کو نقصان ہوگا؟
جو ممالک اپنے ڈیپورٹ ہونے والے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کریں گے، تاخیر یا سستی دکھائیں گے ان کے شہریوں پر سخت ویزہ پابندیاں لگائی جائیں گی، جن میں شامل ہیں ویزہ فیس میں اضافہ، ویزہ درخواست کا وقت زیادہ ہو جانا، ملٹی پل انٹری ویزہ ختم کیا جانا۔
نیا خطرناک پلان ریٹرن ہبس:-
یورپی یونین ایک اور بڑا قدم اٹھانے پر غور کر رہی ہے یورپ سے باہر ایسے ریٹرن ہبس بنائے جائیں جہاں مسترد شدہ، غیر قانونی افراد کو عارضی طور پر رکھا جائے اور پھر انہیں ان کے ممالک واپس بھیجا جائے۔
سب سے اہم بات:-
اب کسی بھی ملک کے عام شہری کو یورپی ویزہ ملے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ اس ملک کی حکومت یورپ سے ڈیپورٹ ہونے والے اپنے شہریوں کو کتنا قبول کرتی ہے اور کتنا تعاون کرتی ہے۔


0 تبصرے